ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / قرض ادا نہ کرنے والے بڑے ناموں کا انکشاف کہیں نہیں لے جائے گا:سپریم کورٹ

قرض ادا نہ کرنے والے بڑے ناموں کا انکشاف کہیں نہیں لے جائے گا:سپریم کورٹ

Sat, 19 Nov 2016 12:04:42    S.O. News Service

نئی دہلی، 18؍نومبر (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج کہا کہ پانچ سو کروڑ روپے سے زیادہ کے بینکوں کے قرض کی ادائیگی نہ کرنے والے قرض داروں کے ناموں کا انکشاف کہیں نہیں پہنچائے گا ، کیونکہ اہم بات یہ ہے کہ بٹے اکاؤنٹ میں جانے والی رقم بڑھتے جانے کی حقیقت کی اہم وجوہات پر غور کیا جائے۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ کی تین رکنی بنچ نے کہاکہ پانچ سو کروڑ یا اس سے زیادہ کا قرض نہیں ادا کرنے والے قرض داروں کے ناموں کا خلاصہ کہیں نہیں پہنچائے گا ۔اس مسئلہ کی جڑ بٹے اکاؤنٹ میں ڈالی جا رہی رقم میں ہو رہا اضافہ ہے، اس مسئلہ کی بنیادی وجہ اور اس کے حل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔بنچ کا یہ تبصرے اہم ہے کیونکہ عدالت عظمی بار بار ریزرو بینک آف انڈیا اور مرکزی حکومت سے پانچ سو کروڑ یا اس سے زیادہ کے بینک کے قرض کے بقایا داروں کے ناموں کے خلاصے کے امکان کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔عدالت نے اس مسئلہ کا کوئی حل تلاش کرنے اور بٹے اکاؤنٹ کی رقم میں ہو رہے اضافہ کی وجوہات کا پتہ لگانے پر زور دیا۔عدالت نے مرکز اور ریزرو بینک کی جانب سے پیش ہوئے سالسیٹر جنرل رنجیت کمار کو ہدایت دی کہ قرض وصولی کے نظام اور قرض وصولی ٹربیونل اور قرض وصولی اپیل ٹریبونل سے متعلق قوانین میں اہم تبدیلی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات دیتے ہوئے چار ہفتے میں حلف نامہ داخل کیا جائے۔اس معاملے کی سماعت کے دوران رنجیت کمار نے عدالت کو مطلع کیا کہ ان تمام مسائل پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو جلد ہی اپنی رپورٹ دے گی، اس کے علاوہ بینک اپنے ایسے قرضوں کی وصولی کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہیں گے۔اس سے پہلے، عدالت عظمی کو مطلع کیا گیا تھا کہ صرف 57قرض دار بینکوں کا 85ہزار کروڑ روپے کا قرض ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔


Share: